حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حاج مہدی احمدی میانجی، آیت اللہ علی احمدی میانجی کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں کہ آپ کو مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت سے خاص شغف تھا لیکن آپ کبھی اپنی ذمہ داریوں کو اس پر قربان نہیں کرتے تھے۔
ماہِ رمضان میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ آپ عمرۂ مفردہ کے لیے تشریف لے جائیں۔ آپ نے قبول نہ کیا اور فرمایا: «پھر میری تبلیغ اور ارشاد اور مسجد و منبر کا کیا بنے گا؟ ماہِ رمضان میں تبلیغ کا فریضہ زیارت سے زیادہ واجب ہے۔»
آپ بارہا آقا سید کمال مراغہای کا یہ واقعہ بیان کرتے تھے کہ پہلے حج کے سفر کے بعد جب ہم کربلا پہنچے تو محرم کا پہلا عشرہ تھا۔ محرم کی پہلی تاریخ کو حرمینِ شریفین کی زیارت کے بعد انہوں نے کہا: «اب زیارت کافی ہے۔ مجھے مراغہ واپس جانا ہے تاکہ مجلس عزا اور تبلیغ انجام دوں، وہاں لوگ منتظر ہیں۔»
ہم نے بہت اصرار کیا کہ ایسی فرصت پھر میسر نہیں آئے گی لیکن انہوں نے فرمایا: «لوگوں کی تبلیغ اور ارشاد کا فریضہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت سے بھی زیادہ اہم ہے۔» چنانچہ انہوں نے اپنا سامان اٹھایا اور ایران روانہ ہو گئے۔
ماخذ: کتاب "حجِ نیکان"، آیت اللہ میانجی، صفحات 22 اور 23۔









آپ کا تبصرہ